نئی دہلی، 15 جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) شیوسینا کے سینئر لیڈر ونایک راوت لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر ہوں گے۔مہاراشٹر کی رتناگری-سندھودرگ لوک سبھا سیٹ سے ایم پی ونایک راوت کاشمار شیوسینا کے تجربہ کار لیڈروں میں ہوتا ہے۔اس سے پہلے ان کا نام شیوسینا کوٹے سے مودی کابینہ میں شامل ہونے کو لے کر بھی چل رہا تھا لیکن آخر میں اروند ساوت شیوسینا کے کوٹے سے مودی حکومت میں وزیر بنے۔بتا دیں کہ اس بار کے لوک سبھا انتخابات میں ونایک راوت نے مہاراشٹر سوابھیمان پارٹی کے امیدوار نلیش نارائن رانے کو شکست دے کر پارلیمنٹ پہنچے ہیں۔ونایک راوت نے نلیش رانے کو 1 لاکھ 78 ہزار 322 ووٹوں سے کراری شکست دی۔اس سے پہلے 2014 کے عام انتخابات میں بھی ونایک راوت نے کامیابی حاصل کی تھی۔انہوں نے کانگریس امیدوار نیلیش رانے کو شکست دی تھی۔حال ہی میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں شیوسینا نے مہاراشٹر میں اچھی کارکردگی کی، اس نے18 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی،وہ این ڈی اے میں دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے۔48 لوک سبھا سیٹوں والے مہاراشٹر میں شیوسینا کے علاوہ بی جے پی نے 23 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔دونوں نے 41 سیٹوں پر جیت کا پرچم لہرایا ہے۔وہیں انتخابات میں شاندار کارکردگی کے بعد شیوسینا کی نظر اب لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر ہے،وہ اس پر دعوی جتا چکی ہے۔شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے کہا تھا کہ یہ کوئی مطالبہ نہیں ہے، بلکہ اتحاد میں دوسری بڑا پارٹی ہونے کے ناطے ان کا حق ہے،اگرچہ لوک سبھا میں نائب صدر کا عہدہ عام اپوزیشن کو دیا جاتا ہے۔پچھلی لوک سبھا میں اسے انادرمک کو دیا گیا تھا، جو اپوزیشن پارٹی کے طور پر ایوان میں تھی۔ادھر ذرائع کی مانیں تو بی جے پی نے اس عہدے کے لئے نوین پٹنائک کی بی جے ڈی اور جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس کو پیشکش دی ہے۔ایسے میں اب دیکھنے والی بات ہوگی آخر میں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر کون بیٹھے گا۔